علماۓ دیوبند


ضروری اعلان : ” کچھ نامی گرامی علمائے دیوبند کے نام سے چلنے والے پیجز جو فرقہ فرانہ فسادات پہلا رہے ہیں،ان سے نہ ہمارا اور نہ ہمارے مسلک دیوبند کا تعلق ہے جزاک اللہ ” ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ علماۓ دیوبند : ہندوستان میں برطانوی سامراجیت کے دور استبداد میں حضرت شاہ ولی اللہ کی تحریک کو جاری رکھنے ، مسلمانانِ ہند کے جداگانہ تشخص کو برقرار رکھنے ، مسلک حنفیہ کی مسند تدریس کو منور رکھنے ، دشمنان اسلام ، مشرکین ہندوستان اور عیسائی مبلغین کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملانے کا بیڑا جس ادارے نےاحسن طریقے سے اٹھایا ۔ وہ دیوبند مکتبہ فکر ہے۔ اسلامی تعلیمات کی تدریس کے لیے الازہر یونیورسٹی ، مصر کے بعد درسگاہ عالمگیر شہرت نصیب ہوئی۔ دیـوبندیت کیـا هے ؟ علماء دیوبند کا کوئ الگ اعتقادی یا فقهی مکتب فکر نہیں هے نا خود رَو قسم کے اهل سنت نہیں ہیں۔ مسلک کے اعتبارسے نہ وه کوئ جدید فرقہ ہیں ، نہ بعد کی پیداوار ہیں ، بلکہ وہی قدیم اهل سنت والجماعت کا مسلسل سلسلہ ہے ، جو سلف صالحین سے تسلسل واستمرار اور سند متصل کے ساتهہ چلا آرها هے ، لہذا اهل سنت والجماعت کا یہ مسلک دیو بند جامع اورمعتدل ترین مسلک ہے جس میں نہ افراط ہے نہ تفریط ہے ، نہ مبالغہ ہے نہ غلو بلکہ کمال درجہ اعتدال وجامعیت کا جوہر پیوستہ ہے بلکہ عقائد میں اهل سنت والجماعت کے طریقہ پر هیں ، اور فقہ میں حنفی المسلک هیں ، البته احناف اهل سنت میں انكے درسگاۃ دیوبند اور اکابرومشائخ کا ایک خاص علمی وتحقیقی رنگ وذوق هے، بس اسی کی تعبیر دیوبندیت سے کی جاتی هے.اور وه رنگ وذوق مندرجہ ذیل خصوصیات کے اجتماع سے پیدا هوتا هے۔ 1 = فقہ حنفی پر اطمینان اور اس کے مطابق فتوی اور عمل کے ساتهہ ساتهہ حدیث وسنت کے ساتهہ خاص و گہرا تعلق وشغف ، نیز دوسرے آئمہ مجتهدین اور اسی طرح حضرات محدثین وعلماء امت کا ادب واحترام اور دل میں سب کی عظمت ومحبت. 2 = اس فقہی اور علمی خصوصیت وامتیاز کے ساتهہ حضرات صوفیہ کرام کی نسبت کی طلب و تحصیل یا کم ازکم دل میں ان عظمت ومحبت ۰ 3 = اس سب کے ساتهہ اتباع سنت پر التزام اور شرک وبدعت سے نفرت اور اس معاملہ میں ایک خاص قسم کی صلابت وحمیت. 4 = اور ان سب صفات کے ساتهہ إعــلاء كلمـةُ الله جذبہ. دراصل یہ اس خاص رنگ وذوق کا عنوان هے جو ان عناصر اربعہ کی اجتماع سے پیدا هوتا هے۔ علمائے دیوبند كے اس سلسلہ مبارکہ کے اکابر واساطین مثلا حضرت نانـوتـوی حضرت گنگوهی حضرت تهـانوی حضرت شـیخ الهند حضرت سـہارنپوری حضرت مدنـي حضرت کشـمیري حضرت عثمانـي وغیرهم رحمہم الله تعالی ونَوَّرَالله مَراقدهم اور ان کے خاص تلامذه و مسترشدین ان هی چیزوں کی جا معیت وکمال میں ممتاز تهے ورنہ یہ خصوصیات جدا جدا دوسرے حلقوں میں بهی پائے جاتے هیں۔ حاصل یہ کہ أهل سنت والجماعت اور قرآن وسنت اور فقہ حنفی کے ساتهہ تعلق و وابستگی کے بعد یہ هے وه خاص رنگ وذوق یا خاص مشرب جس کا عنوان دیوبندیت هے ۔ تصنیف و تالیف کا زوال: دیوبند کے تقریباً تمام اکابر علماء نے اپنے اپنے وقت میں تصنیف و تالیف کے لازوال سلسلے اور عظیم روایت کو زندہ رکھا ہے۔علماء دیوبند نے تفسیرقرآن ، شرح حدیث ، اصول فقہ ، فقہ حنفی ، فرائض ، توحید وعقائد، سیرت وآداب ، اوردیگر علوم وفنون میں ، نیز فرق باطلہ ،عیسائیت ، ملاحده ، دہریت ، قادیانیت ومرزائیت ، شیعہ وروافض ، نیز دین متین کی حفاظت ، مبتدعین کی رد ، اور غیر مقلدین کی بعض سینہ زوریوں کی تردید میں جو کتابیں تالیف کی ہیں ان کی تعداد دو ہزار سے زائد ہیں ، جن میں چهوٹے رسائل سے لے کر کئ کئ جلدوں پر مشتمل ضخیم کتابیں شامل ہیں ، اور یہ مقدار صرف اکابر ومشائخ کی تالیفات کی ہے ، دارالعلوم دیوبند کے دیگر فضلاء و منتسبین کی تالیفات مزید برآں ہیں ، ان تمام کتابوں کی صرف نام کی تفصیل کے لیئے بهی ایک مستقل کتاب ودفتر درکار ہے ، ان اکابر میں سے صرف ایک مصنف حكيم الأمـة مجدِد المـلة حضرت الإمـام أشرف على تهانوى نورالله مرقده کی تصنیفات ایک ہزار سے زائد ہیں ، ان میں سے بعض کتابوں کی دو ۲ سے لے کر باره ۱۲ تک جلدیں ہیں ، یہاں تک کہ حكيم الأمـة رحمه الله کثرت تالیفات میں شیخ جلال الدین سیوطی رحمه الله سے بهی فائق ہیں ، اور اگر میں یہ کہوں تو کوئی مبالغہ نہیں ہو گا کہ حكيم الأمـة رحمه الله کی کتابیں اتقان وتحقیق میں شیخ سیوطی رحمه الله کی کتابوں سے بهی فائق ہیں ، ہاں شیخ سیوطی رحمه الله کی وسعت معلومات اور حیرت افزا تبحر بهی مُسَلم ہے ، اور حكيم الأمـة رحمه الله کی کتابیں اردو اور عربی دونوں میں ہیں ، پهر ان تالیفات کے علاوه حكيم الأمـة رحمه الله کے وه مواعظ وملفوظات بهی ہیں ، جن میں بہت سے علوم ومعارف اور بلند پایہ تحقیقات ہیں۔ اسی طرح اردو زبان کی حفاظت اور عربی زبان کی ترویج میں بھی علماء دیوبند کا بہت اہم کردار ہے۔ دیوبند اور علامہ اقبال: ١۔دیوبند ایک ضرورت تھی ۔اس سے مقصود تھا ایک روایت کا تسلسل وہ روایت جس سے ہماری تعلیم کا رشتہ ماضی سے قائم ہے ۔ (اقبال کے حضور ص ٢٩٣) ٢۔ میری رائے ہے کہ دیوبند اور ندوہ کے لوگوں کی عربی علمیت ہماری دوسری یونیورسٹیوں کے گریجویٹ سے بہت زیادہ ہوتی ہے ۔ (اقبال نامہ حصہ دوم ص٢٢٣) ٣۔ میں آپ (صاحبزادہ آفتاب احمد خان) کی اس تجویز سے پورے طور متفق ہوں کہ دیوبند اور لکھئنو (ندوہ) کے بہترین مواد کو بر سرِکار لانے کی کوئی سبیل نکالی جائے ۔ (اقبال نامہ حصہ دوم ص ٢١٧) ٤۔ایک بار کسی نے علامہ مرحوم سے پوچھا کہ دیوبندی کیا کوئی فرقہ ہے ؟ کیا نہیں ہر معقولیت پسند دیندار کا نام دیوبندی ہے ۔ (علماء دیوبند کا مسلک ص ٥٥) ٥۔مولوی اشرف علی تھانوی سے پوچھئے وہ اس (مثنوی مولاناروم ) کی تفسیر کس طرح کرتے ہیں میں اس (مثنوی کی تفسیر کے ) بارے میں انہی کا مقلد ہوں ۔ (مقالات اقبال ص ١٨٠) ٦۔میں ان (مولانا سید حسین احمد مد نی ) کے احترام میں کسی اور مسلمان سے پیچھے نہیں ہوں ۔ (انوار اقبال ص ١٦٧) ٧۔نیز فرماتے ہیں مولانا (سید حسین احمد مدنی ) کی حمیت دینی کے احترام میں میں ان کے کسی عقیدت مند سے پیچھے نہیں ہوں ۔ (انواراقبال ص ١٧٠) ٨۔… اس ( وہٹر ) کے متعلق مولوی سید انور شاہ صاحب سے جو دنیا ئے اسلام سے جید ترین محدث وقت میں سے ہیں میری خط و کتابت ہوئی ۔ (انوار اقبال ص ٢٥٥) ٩۔مجدد الف ثانی عالمگیر اور مولانا اسمعٰیل شہید رحمتہ اﷲ علیہم نے اسلامی سیر ت کے احیاء کی کوشش کی مگر صوفیاء کی کثرت اور صدیوں کی جمع شدہ قوت نے اس گروہ احرار کو کامیاب نہ ہونے دیا ۔ (اقبال نامہ حصہ دوم ص ٤٩) ١٠۔مولانا شبلی رحمتہ اﷲ علیہ (م١٣٣٢ ھ ١٩١٤ ئ) کے بعد آپ (حضرت مولانا سید سلمان ندوی خلیفہ مجازحضرت حکیم الامت مولانا اشرف علی تھانوی ) اساذ الکل ہیں ۔ قیام پاکستان اور دیوبند: یہی وہ پس منظر تھا جس میں قیام پاکستان کے وقت جب 15اگست 1947ء کو پاکستان کے پرچم کی پہلی رسم کشائی ہوئی تو قائداعظم خاص طور پر مولانا شبیر احمد عثمانی کو ساتھ لے کر گئے۔ مولانا شبیر احمد عثمانی نے تلاوت اور دعا کی اور پھر پاکستان کا جھنڈا لہرایا جسے پاکستانی فوج نے سلامی دی۔ یہ رسم کراچی میں پاکستان کے وفاقی دارالحکومت میں ادا کی گئی جبکہ مشرقی پاکستان کے صوبائی دارالحکومت ڈھاکہ میں مولانا شبیر احمد عثمانی کے بھائی اور مولانا اشرف تھانوی کے بھانجے مولانا ظفر احمد عثمانی نے پاکستان کا پرچم لہرایا۔ ان علماء ربانیین کی تگ وتاز کا روشن پہلو ۱۴/ اگست ۱۹۴۷ء کو قیام پاکستان پر ہی ختم نہیں ہوا۔ جب پاکستان کی دستور ساز اسمبلی نے مارچ ۱۹۴۹ء میں ”قرار داد مقاصد“ کے عنوان سے ایک قرار داد منظور کی تو مولانا شبیر احمد عثمانی اور ان کے باہمت رفقائے کار نے اسلام کی بنیادی تعلیمات ، اساسی احکامات اور اہم جزئیات کو آئین کا حصہ بنانے میں پر جوش وپر خلوص انداز میں حصہ لیا۔ بقول ڈاکٹر معین الدین عقیل: ”وزیر اعظم لیاقت علی خان نے اس قرار داد منظوری کو حصول آزادی کے بعد اس ملک کی زندگی کا اہم ترین واقعہ قرار دیا“۔ یہی وجہ ہے ”بانیان پاکستان“ بھی استخلاص وطن کی تحریک میں ان ”درویشان خدامست“ کی تائید وتسوید، کردار وعمل اور درددل کی آمیزیش کے کھل کر معترف وقدردان ہوئے۔ جس کا اظہار مشرقی ومغربی پاکستان میں قائد اعظم کی منشا پر پرچم کشائی کا عمل ان حضرات کے بابرکت ہاتھوں انجام پایا۔ مولانا ظفر احمد عثمانی نے ۱۹۴۵ء کے لیاقت کاظمی الیکشن میں جو کردار ادا کیا، اس پر تشکر وامتنان کے جذبات سے لبریز نوابزادہ لیاقت علی خان کا یہ خط ملاحظہ ہو : ”میں انتہائی مصروفیتوں کے باعث اس سے قبل آپ کو خط نہ لکھ سکا۔ مرکزی اسمبلی کے انتخاب میں اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی کامیابی عطا کی ہے۔ اس سلسلے میں آپ جیسی ہستیوں کی جد وجہد بہت باعث برکت ثابت ہوئی۔ آپ حضرات کا اس موقع پر گوشہ ٴ عزلت سے نکل کر میدان عمل میں آنا اور اس سرگرمی سے جد وجہد کرنا بہت موثر ثابت ہوا۔ اس کامیابی پر میں آپ کو مبارک باد دیتاہوں، خصوصا حلقہ انتخاب سے جہاں ہماری جماعت نے مجھے کھڑا کیا تھا۔ آپ کی تحریروں اور تقریروں نے باطل کے اثرات بڑی حد تک ختم کردیئے ہیں… اور آپ کی تحریریں، تقریریں اور مجاہدانہ سرگرمیاں آنے والی منزل کی دشواریوں کو بھی معتدبہ حد تک ختم کردیں گی“۔

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out / Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out / Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out / Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out / Change )

Connecting to %s